TRUE
RTL

Classic Header

{fbt_classic_header}

تازہ ترین :

latest

شہباز گل کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا اسکی سزا موت ہے،غلام سرور خان


راولپنڈی (آصف شاہ) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما وسابق وفاقی وزیر ہوا بازی سرور خان نے کہا ہے کہ شہباز گل کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا اسکی سزا موت ہے لیکن فیصلہ ایسا ہونا چاہیے جس سے اداروں کا تقدس پامال نہ ہوسپریم کورٹ شہباز گل کے خلاف مقدمے کا نوٹس لے مقدمہ میں شامل دفعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے پی ڈی ایم نے بھی اداروں کے خلاف باتیں کیں انکے خلاف کوئی ایکشن نہ ہواہم کسی کا نام لینے سے نہیں ڈرتے شہباز گل کا بیان ایک پارٹی کارکن کا بیانیہ ہے تاہم اسکے بیانیہ کا دفاع نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کو کہیں بڑھ کر سزا دی جا رہی ہے اسلام آباد پولیس کی حراست میں شہباز گل سے ہونے والے انسانیت سوز سلوک کے پیچھے حکومت وقت ہے جس کی ذمہ داری اداروں پر عائد ہوتی ہے شہباز گل سے بڑے مجرموں کے خلاف کچھ نہیں ہوا جبکہ شہباز گل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجا رہا ہے ملک دشمن امپورٹڈ حکومت کیخلاف آج (بروز اتوار) سے جس لیاقت باغ سے تحریک کا آغاز ہو رہا ہے یہاں پر 2 وزرائے اعظم کو پہلے شہید کیا گیا پاکستان کے استحکام آزادی،کرپٹ،ملک دشمن حکومت کے خاتمے کیلئے تحریک شروع کر رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے سیکریٹریٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا انہوں نے کہا کہ شہباز گل کی پوری ویڈیو ریلیز نہیں ہو سکی اس میں انہوں نے سیاسی باتیں کیں شہباز گل نے اداروں کے خلاف بات کی ان پر مقدمہ درج کیا گیا شہباز گل پر بدترین تشدد بھی کیا گیا اور نجی چینل کو بھی نشانہ بنایا گیا میڈیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے نجی چینل کا مونوگرام ہٹا لیا گیا نجی چینل کے مالک پر ہر طرح کے الزامات لگائے گئے 2 سینئراینکر پرسن کو دھمکیاں دی گئیں اور وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے معاملہ عدالت میں ہونے کے باوجود نجی چینل کا این او سی مسترد کر دیا گیاشہباز گل کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا اسکی سزا موت ہے پی ڈی ایم نے بھی اداروں کے خلاف باتیں کیں انکے خلاف کوئی ایکشن نہ ہوا پارٹی کے ایک کارکن نے گفتگو کی اسکے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کر رہا پی ڈی ایم کے کسی بھی لیڈر کے خلاف کاروائی نہ ہوئی اسلام آباد پولیس نے انسانیت سوز تشدد شہباز گل پر کیا آج احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں ملک دشمن حکومت کے خلاف جلسہ کی سیریز چلا رہے ہیں جلسوں کی تحریک اسی مقام سے شروع کر رہے ہیں جہاں پر 2 وزرائے اعظم شہید ہوئے اس ملک دشمن حکومت کے خاتمہ کے لئے جلسے شروع کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے نام لے کر ٹارگٹ کیا انکے خلاف تو کوئی ایکشن نہیں ہوا میں شہباز گل کے بیانئے کا دفاع نہیں کر رہا لیکن دوسرے کے خلاف کاروائی نہ ہونا زیادتی ہے ایک سیاسی کارکن کے خلاف بدترین انتقامی کاروائی کی جا رہی ہے اسلام آباد پولیس نے بدترین تشدد کیا مریم نواز، مولانا فضل الرحمان، زرداری اور دیگر کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئے نوازشریف،شہباز شریف، آصف زرداری، مریم نواز کے خلاف بھی ایکشن لینا چائیے فیصلہ ایسا ہونا چاہیے جس سے اداروں کا تقدس پامال نہ ہو ہم کسی کا نام لینے سے نہیں ڈرتے اسلام آباد پولیس کی حراست میں سب ہوا اس کے پیچھے حکومت وقت ہے جس کی ذمہ داری اداروں پر عائد ہوتی ہے شہباز گل سے بڑے جرم کرنے والوں کے خلاف کچھ نہیں ہوا جیلوں میں انکو وی آئی پی پروٹوکول دیاگیا شہباز گل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیاانہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی جاتی ہے کہ ایف آئی آر درج کی گئی غلط تھی اس کا کمیشن بننا چاہئے اور سب سامنے آنا چاہئے میں نے کہیں نہیں سنا کہ عمران خان نے کسی ادارے پر براہ راست تنقید کی انہوں نے حکومت پر بات کی مگر اسٹیبلشمنٹ کا رول ہوتا ضرور ہے ہم نے انکے اس ایکشن کی مذمت کی اس سے آگے نہیں بڑھے یہ انکی انتقامی سوچ کا نتیجہ ہے کوئی قول و فعل میں تضاد نہیں اسکے بیانئے کا دفاع نہیں کر رہا مگر اس کو کہیں بڑھ کر سزا دی جا رہی ہے اس ملک میں یہی ہو گا اگر عمران خان کو نا اہل کیا جاتا ہے توکوئی دیانتدار نہیں رہے گااس وقت ساری باتوں کا حل ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے کہ یہ دفعات بنتی ہیں یا نہیں اس پر جس نے بھی تشدد کیا حراست اسلام آباد پولیس کی تھی اسلئے ذمہ داری اسلام آباد پولیس پر بنتی ہے یہ معلوم نہیں کہ اس سے حکومت یاذمہ دار ادارے کیا بیان لینا چاہتے ہیں مگر ہم تشدد اور انتقامی کاروائی کے خلاف ہیں ملک دشمن امپورٹڈ حکومت کیخلاف آج (بروز اتوار) سے تحریک کا آغاز ہو رہا ہے پاکستان کے استحکام آزادی،کرپٹ،ملک دشمن حکومت کے خاتمے کیلئے تحریک شروع کر رہے ہیں اس کرمنل کرپشن زدہ اور ملک دشمنوں کی سیریز کل سے امپورٹڈ حکومت کے خلاف شروع کر رہے ہیں نوجوان اور پڑھے لکھے لوگوں کا جوش و خروش اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھاڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم نے کہا کہ شہباز گل کا قصور یہ ہے کہ اسکے والد وزیراعظم نہیں تھے تو یہ ظلم کے مترادف ہے ہماری عدلیہ ادارے سب سے درخواست ہے جو عمل انسانوں کے دائرے کو کراس کر جائے اس پر پوری دنیا تنقید کی جا رہی ہے خدارا انسانیت کو نہ ٹوٹنے دیں انکا خاتمہ اللہ کے حکم سے لکھا گیا ہے پی ڈی ایم کا الیکشن میں جو ہونا ہے وہ ہو جائیگا اس حکومت سے یہی توقع تھی مگر انسانیت کو نہ ڈوبنے دیا جائے پنجاب میں ضمنی انتخابات میں نتائج دیکھ چکے آج لیاقت باغ کاجلسہ گرتی ہوئی دیواروں میں آخری دھکا ہو گا۔

 

کوئی تبصرے نہیں