TRUE
RTL

Classic Header

{fbt_classic_header}

تازہ ترین :

latest

چکوال۔سوزوکی ڈرائیور اور کنڈیکٹر کا ادھیڑ عمر شخص اور اس کی بیٹی پرتشدد

فائل فوٹو

 چکوال:تھانہ نیلہ چکوال کے علاقے ڈھوک ڈبری میں گھر کے باہر پریشر ہارن بجانے سے منع کرنے پر سوزوکی کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے گھر میں گھس کر ادھیڑ عمر شخص اور اس کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا مقدمہ کے اندراج کے بعد عبوری ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان نے مدعی اور اس کے اہل خانہ کا ناطقہ بند کر دیا جنہیں مقدمہ سے دستبردار ہونے کے لئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں جبکہ پولیس نے بھی ملزمان کے ساتھ مل کر مدعی پر صلح کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا مدعی کی جانب سے دباؤ قبول کرنے پر ملزمان نے انکوائری کے لئے درخواست دے دی اور مدعی کے اقربا اور اہل علاقہ کو بھی انکوائری میں بطور گواہ پیش ہونے سے باز رکھنے کے لئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے سجوال حامد سکنہ ڈھوک ڈبری نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے 18اگست کواس کے والد عبدالحمید کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 354،452اور34کے تحت مقدمہ نمبر130درج کیا تھا جس کے مطابق نور خان سکنہ ڈھوک ڈبری روزانہ ان کے گھر کے باہر جان بوجھ کر اپنی سوزوکی کھڑی کر کے پریشر ہارن بجاتا تھا جس کی وجہ سے اس کا دیڑھ سالہ بیمار نواسہ ڈرتا اور چیختا تھا اس حوالے سے متعدد مرتبہ نور خان کی منت سماجت کر کے اسے ایسا کرنے سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا وقوعہ کے روز صبح ساڑھے6بجے نور خان نے اپنی سوزوکی کے کنڈیکٹرمقبول حسین کے ہمراہ گاڑی کا پریشر ہارن آن کر کے چھوڑ دیا جس پر اس کا نواسہ چیخ چیخ کر بے ہوش ہو گیا منع کرنے پر نور خان اور مقبول نے اس کے والد کومارنا اورگالیاں دینا شروع کر دیں جب وہ جان بچا کر اندر بھاگا تو مذکورہ دونوں افرادگھر کے اندر داخل ہو گئے اور کمرے میں آکر اس پر وحشیانہ تشدد کیا اسی اثنامیں جب اس کی بیٹی اسے چھڑانے آئی تو ملزمان نے اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹے رہے سجوال کے مطابق مقامی پولیس ملزمان کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے جبکہ ملزمان نے انکوائری کے لئے درخواست دے رکھی ہے اور اہل علاقہ کو خوفزدہ کر رہے ہیں کہ اگر کوئی ہمارے حق میں گواہی دینے گیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے متاثرہ خاندان نے آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او چکوال سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ملزمان سے تحفظ دیا جو انہیں مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ 

کوئی تبصرے نہیں